Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جزائر بالی کی زیرآب منفرد دنیا

سمندر میں انسانی ہاتھوں کے تراشے مجسمے مناظر دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتے ہیں

سمندر میں انسانی ہاتھوں کے تراشے مجسمے مناظر دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتے ہیں

انڈونیشیا کا دل فریب جزیرہ بالی سطح زمین پر ہی نہیں زیرآب بھی کتنے ہی خوب صورت نظارے سمیٹے ہوئے ہے۔

بالی کے زیرآب مجسمے اور غرقاب باغات دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح بڑے شوق اور اہتمام سے یہاں آتے ہیں اور زیرآب سمندری دنیا کے عجائبات بھی دیکھتے ہیں اور ان کے بارے میں معلومات بھی جمع کرتے ہیں اور پھر ساری دنیا کو اس انوکھی دنیا کا احوال بتاتے ہیں۔

بالی کے نیلگوں سمندر کے ہلکورے لیتے پانیوں کے اندر ایک عجیب و غریب دنیا آباد ہے، جس میں زمانۂ قدیم کے مجسمے بھی ہیں اور انہی میں غرقاب باغات بھی اپنے حُسن کا جادو جگا رہے ہیں۔ انہی میں بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں شوقین غوطہ خور گہرے پانیوں میں غوطہ خوری کرکے اگر ایک طرف اپنا خطرناک شوق پورا کررہے ہیں تو دوسری طرف وہ اپنی مہارت بھی دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے پیش کرکے داد وصول کررہے ہیں۔ یہ غوطہ خور جب ان گہرے پانیوں میں چھلانگیں لگاتے ہیں تو اندر کی نیم تاریک دنیا میں ایک طرف قدیم مجسمے دیکھ کر حیران ہوتے ہیں تو ساتھ ساتھ مندروں کی انوکھی دنیا بھی انہیں مبہوت کردیتی ہے۔

یہ سنگ تراشی سمندری پانی کے اندر نہیں کی گئی ہے، بل کہ یہ سارا کام خشکی پر کیا گیا ہے۔ یہ سنگ تراشی فن کی انتہائی بلندیوں پر دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام مجسمے اور مندر خشک زمین پر ڈیزائن کیے گئے تھے یعنی خشکی پر پہلے تیار کیے گئے تھے اور ان میں ایسا مواد استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ان پر مونگے کی بھرپور پیداوار ممکن ہوئی۔

جب ماہرین نے ان تمام چیزوں کو پوری مہارت اور سلیقے سے تیار کرلیا تو اس کے بعد انہیں نہایت مہارت کے ساتھ کشتیوں میں رکھ کر مقررہ مقامات تک لے جاکر نیم غرقاب چٹانوں پر نصب کروادیا گیا۔ اس کے نتیجے میں یہ نیم غرقاب باغات وجود میں آگئے جن کے ساتھ کھیل کے میدان بھی بنائے گئے تھے اور ریف یعنی پتھریلے ایکو سسٹم بھی تھے جن کے ساتھ رنگارنگ استوائی بحری حیات بھی دکھائی گئی ہے۔ ہم اسی انوکھی زیرآب دنیا کے بارے میں کچھ معلومات آپ کو فراہم کررہے ہیں:

٭ Karang Lestari Bio-Rock Reef Project

اس انوکھی دنیا کے ساتھ ساتھ یہاں کے سمندر کا دوسرا آرٹ پراجیکٹ Karang Lestari Bio-Rock Reef Project ہے اور یہ بھی فن اور آرٹ کے حوالے سے بے مثال چیز ہے۔ یہ پراجیکٹ شاید دنیا کا ریف کی بحالی کی کوششوں کا سب سے بڑا اور اہم و کام یاب پراجیکٹ ہے۔ یہ بحرالکاہل اور کیریبین کے دل کش منصوبوں کو دھندلادینے والی چیز ہے۔ بالی کے شمال مغرب میں واقع یہ ایک بے مثال منصوبہ ہے جو بلاشبہہ اتھلے پانیوں کے مونگے کے جزائر کا سب سے بڑا علاقہ ہے، جس کا رقبہ کم و بیش دو ہیکٹیر بنتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لگ بھگ پورے سال تک اس کی لہریں نہایت پرامن رہتی ہیں۔

یہ ایریا بحری حیات کے حوالے سے محفوظ مقام کے زمرے میں شامل ہے، کیوں کہ یہاں بحری حیات بڑے سکون سے بڑھتی اور پرورش پاتی ہے اور بڑے ہی سکون سے رہتی بھی ہے، جہاں غرقاب دھاتی اسٹرکچرز پر ایک درجن سے زیادہ مونگے کی نرسریاں قائم ہیں جنہیں ہلکے الیکٹریکل کرنٹس کے ذریعے حیات نو بھی ملتی رہتی ہے جس سے یہاں مونگے کی نمو میں اضافہ ہوتا ہے اور پوری دنیا سے آنے والے سیاحوں کو بڑی معلومات بھی ملتی ہے اور نئے نئے اور انوکھے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اس پوری سائٹ کے اسٹرکچرز میں بڑے بڑے گنبد بھی شامل ہیں اور مہکتے کنول اور نیلوفر کے ایسے پودے بھی جو جب سمندری لہروں کے لہرانے سے کھلتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ کچھ سائیکلیں یا انوکھے بھنور بھی ہیں اور گوتم بدھ اور ہندو دیوی دیوتاؤں کے مجسمے بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یکایک ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مجسمے نہیں بل کہ زندہ اجسام ہیں۔ یہ دیکھنے میں بالکل جان دار نظر آتے ہیں۔

یہاں آنے والے سیاحوں کو یہ سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے کہ وہ بعض مونگے کے جزیروں کے پتھروں اور بحری پتھروں پر اپنے نام کندہ کراکے انہیں سمندر کی تہہ میں محفوظ کرادیتے ہیں جو بعد میں مچھلیوں کے لیے ایک نیا گھر بن جاتا ہے۔ یہ بھی ایک یکتا آئیڈیا ہے جو بلاشبہہ قابل دید ہے۔

٭ Jemeluk Bay Underwater Gallery

اس گیلری میں زیرآب گوتم بدھ کے مجسمے بھی ہیں اور بدھ مت کی عبادت گاہیں اسٹوپاز بھی ہیں، یہاں ر دیگر مجسمے بھی ہیں۔ اس سب کو مجموعی طور پر ملاکر Badung Underwater Cultural Park Deus کا نام دیا گیا ہے جسے آنے والے سیاح بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک عجیب و غریب، نادر و یکتا شاہ کار ہے جو بے شک بار بار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

یہیں Bask Gili Meno کے مقام پر Bio-rock NEST بھی ایک قا بل دید مقام ہے، یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ساحل پر قائم ہوٹلوں کے کمرے ہر وقت ہی بک رہتے ہیں۔ یہاں کے ساحل کی سب سے قابل ذکر تفریح گاہ ایک دل کش مندر Elephants Royal Mengwi Temple ہے، اس کے ساتھ منکی فاریسٹ یعنی بندروں کا جنگل بھی ایک منفرد مقام ہے۔ سیاحوں کے لیے یہاں کی بگھیوں میں بھی بڑی کشش ہے جن میں بیٹھ کر سیاح یہاں کی سیر بھی کرتے ہیں اور ایک انوکھا لطف بھی اٹھاتے ہیں۔۔

یہاں کی ڈائیو سائٹس میں انسانی ہاتھ سے تراشی ہوئی زیرآب گیلریاں بھی ہیں اور یہ گیلریاں میرین فاؤنڈیشن کے مجسموں پر مشتمل ہیں، مذکورہ فاؤنڈیشن میں یوکے بیسڈ ’’ایکو آرٹ گروپ‘‘ کے ساتھ ساتھ متعدد ماحولیاتی این جی اوز بھی شامل ہیں۔ ان مجسموں میں انڈونیشین آرٹسس  Wayan Winten  اور Eddi Prabandono کے فن پارے شامل ہیں جو ایک بچے کے دیوقامت سر سے لے کر ہندو حسین دیویوں اور جل پریوں پر بھی مشتمل ہیں اور ان میں خزانے کے کئی صندوق بھی شامل ہیں اور متعدد زندہ سمندری مجسمے بھی اس خزانے کا حصہ ہیں۔ یہاں ایک بہت بڑا زیرآب میل بکس بھی ہے جو طویل عرصے سے کام بھی کررہا ہے۔ یہاں کی مقامی دکانوں سے آپ واٹر پروف پوسٹ کارڈز خرید سکتے ہیں پھر پانی میں غوطہ لگاکر اسے میل بکس میں پوسٹ کرسکتے ہیں۔

٭ Underwater Buddhas and Stupas Ceningan Island Ceningan

زیرآب بدھا اور اسٹوپاز Ceningan Island جزائر نوسا جو بالی کے ساحل کے بالمقابل واقع ہیں، اس پراجیکٹ میں بھی متعدد غیرمعمولی زیر آب اشیاء شامل ہیں جن میں ایک 2.4 میٹر طویل گوتم بدھ کا مجسمہ ہے جس کے اردگرد چھوٹے چھوٹے مجسمے بھی ہیں اور بدھ مت کے اسٹوپاز بھی۔ یہاں کی سب سے بڑی اور اہم بحری سرگرمی بالی انڈر واٹر اسکوٹر ہے جو یہاں آنے والے مہمانوں کو اس مقام کی سیر بھی کراتا ہے اور انہیں اس مقام کو کھوج لگانے اور اس از سر نو دریافت کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اس بحری اسکوٹر میں سمندر کی سیر کا انوکھا اور منفرد انداز ہوتا ہے، جس سے مہمان خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یہاں غوطہ خوری کرنے والے شوقین ڈائیورز بھی اپنی سیر کے دوران اس مقام کا بار بار دورہ کرتے ہیں۔

٭  Tulamben Boga Shipwreck

یہ خوب صورت مقام مشرقی بالی کے ساحل پر واقع ہے اور یو ایس ایس لبرٹی شپ ریک کے لیے مشہور ہے جو دوسری جنگ عظیم سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم لبرٹی سے کوئی پانچ منٹ کے فاصلے پر 2011 میں ایک اور بڑا کارگو بحری جہاز جان بوجھ کی اسی مقام پر ڈبویا گیا تھا، جس پر آہستہ آہستہ کائی، الجائی اور مونگے پیدا ہوکر بڑھتے چلے گئے اوریہ غوطہ خوروں کی توجہ کا مرکز بھی بنتا چلا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ یہاں آنے والے نئے غوطہ خوروں کے لیے یہ دل چسپ مقام ہے اور وہ یہاں بار بار آنا پسند کرتے ہیں۔ اس جگہ متعدد مجسموں کے ساتھ دور قدیم کی ایک کلاسک فاکس ویگن 181بھی موجود ہے جو بہت سے لوگوں اور غوطہ خوروں کے لیے خصوصی دل چسپی کا باعث ہے۔

٭Jason deCaires Taylor کے فن پارے

یہاں Jason deCaires Taylor کے تیار کردہ مجسمے بڑے اہتمام سے نصب کیے گئے ہیں جن سے سمندر کے اندر نیم تاریک ماحول میں عجیب سی پراسراریت پیدا ہوگئی ہے جن کے ساتھ ہندو دیوی دیوتاؤں کے متحرک مجسمے بھی ہیں اور ان سے منسوب متعدد مناظر بھی سمندر کے اندر زندہ منظر بنائے ہوئے ہیں۔

Jason deCaires Taylor وہ نادر و نایاب عالمی سنگ تراش ہے جس کے تیار کردہ مجسمے دنیا بھر کی متعدد مشہور زمانہ ڈائیونگ سائٹس پر موجود ہیں۔ بلاشبہہ یہ آرٹ کے بے مثال شاہ کار ہیں جو کیریبئن اور جزائر کینری میں بھی رکھے گئے ہیں۔


News Source

جزائر بالی کی زیرآب منفرد دنیا