Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

جانوروں کی چوری پر انڈونیشیا کا کموڈو ڈریگن جزیرہ بند کرنے کا فیصلہ

انڈونیشیا میں کموڈو ڈریگن کے نام سے مشہور جزیرے کو سیاحوں کے لیے ایک سال کے لیے بند کردیا جائے گا (فوٹو: فائل)

انڈونیشیا میں کموڈو ڈریگن کے نام سے مشہور جزیرے کو سیاحوں کے لیے ایک سال کے لیے بند کردیا جائے گا (فوٹو: فائل)

جکارتا: انڈونیشیا میں ایک جزیرہ خوف ناک کموڈو ڈریگن کی وجہ سے مشہور ہے لیکن وہاں کموڈو ڈریگن چوری ہونے کے کئی واقعات کے بعد اب اس جزیرے کو ایک سال کے لیے بند کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل صرف مارچ کے مہینے میں انتہائی چالاک اسمگلروں نے 41 کے قریب چھوٹے ڈریگن چرالیے جن میں سے ہر ایک کی قیمت 35 ہزار ڈالر یا پاکستانی 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے یا اسمگلروں نے انہیں اتنی ہی رقم میں فروخت کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس عجیب و غریب مخلوق کو پوری دنیا سے لوگ دیکھنے لیے آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے انڈونیشیا کی سیاحت میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

ان واقعات کے بعد انڈونیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2020ء سے اگلے 12 ماہ تک کے لیے کموڈو ڈریگن کا جزیرہ بند کردیا جائے گا۔ جزیرہ بند کرنے کے بعد کموڈو ڈریگن کی آبادی بڑھانے اور ان کے تحفظ کے لیے ایک وسیع پروگرام بھی شروع کیا جائے گا۔ ابھی اس جزیرے پر 5000 کے قریب کموڈو ڈریگن موجود ہیں۔

انڈونیشیا میں کموڈو، پاڈار اور رینکا جزائر اور دیگر 26 جزائر میں ڈریگن پائے جاتے ہیں جسے مجموعی طور پر کموڈو نیشنل پارک کا نام دیا گیا ہے۔ صرف 2018ء میں ہر سال 10 ہزار سے زائد سیاحوں نے یہاں کی سیر کی جن میں 95 فیصد سیاح کا تعلق بیرونِ ملک سے تھا۔

انڈونیشیا حکومت کے مطابق صرف کموڈو جزائر ہی ایک سال کے لیے بند کیا جائے گا جبکہ یونیسکو کی فہرست میں شامل دیگر پارک کھلے رہیں گے۔ کچھ عرصے قبل سیاح کی جانب سے سگریٹ پھینکنے پر آگ لگی تھی جس سے 10 ہیکٹر کا جنگل تباہ ہوگیا تھا اور اس کے بعد انڈونیشیا نے سیاحوں کی تعداد 5 ہزار تک محدود کرنے کی تجویز دی تھی۔


News Source

جانوروں کی چوری پر انڈونیشیا کا کموڈو ڈریگن جزیرہ بند کرنے کا فیصلہ