Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

’’ہوم ورک‘‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

بچوں کو اسکول سے جو ہوم ورک ملتا ہے اُس میں غرق ہوکر بھی والدین اُسے نہیں سمجھ پاتے۔ فوٹو: فائل

بچوں کو اسکول سے جو ہوم ورک ملتا ہے اُس میں غرق ہوکر بھی والدین اُسے نہیں سمجھ پاتے۔ فوٹو: فائل

برطانوی ویب سائٹ ڈیلی میل آن لائن کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ میں والدین یہ سمجھنے کے لیے کہ ان کا بچہ کیا پڑھ رہا ہے، خود پرائیویٹ ٹیوٹرز سے ٹیوشن پڑھ رہے ہیں۔

یہ برطانوی والدین ہی کا مسئلہ نہیں پاکستانی ماں باپ اسی مسئلے سو دوچار ہیں۔ دراصل بچوں کو اسکول سے جو ہوم ورک ملتا ہے اُس میں غرق ہوکر بھی والدین اُسے نہیں سمجھ پاتے، والدین تو والدین ’’سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی‘‘ لگتا ہے اسکول والے چاہتے بھی یہی ہیں کہ ’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘، نصاب جتنا مشکل ہوگا، اتنا ہی اسکولوں کے کوچنگ سینٹروں کا کاروبار چلانا آسان ہوگا۔

صورت حال یہ ہے کہ ہمارا عزم ہے ’’مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے‘‘ لیکن درحقیقت اپنے بچوں کو پڑھانا بھی مصیبت بن گیا ہے۔ اب تو جب بچے والدین کے سامنے ہوم ورک رکھتے ہیں تو وہ انھیں دشمن ہی کے بچے لگنے لگتے ہیں۔ ایسے میں دشمن کے بچوں کو پڑھانا احسان نہیں انتقام اور انتظام بن گیا ہے۔

انتظام اس طرح کہ ایک بار دشمن کے بچوں کو پڑھائی پر لگا دو، پھر وہ دشمنی، دہشت گردی اور مارا ماری بھول بھال کر اسکول کی فیسیں دینے، اسکولوں میں مختلف دن منانے کے اخراجات ادا کرنے اور بچوں کو ہوم ورک کرانے کی فکروں میں یوں ڈوبے گا کہ کبھی اُبھر نہ پائے گا۔ پھر دشمن کو سلیم کوثر کا یہ شعر ذرا سی ترمیم کے ساتھ سنا دیا جائے:

ہم نے تو ’’تم‘‘ سے انتقام لیا

تم نے کیا سوچ کر ’’پڑھائی‘‘ کی

اگر ہمارے ہاں بچوں کا ہوم ورک سمجھنے اور انھیں پڑھانے کے لیے والدین کے ٹیوشن پڑھنے کا چلن شروع ہوگیا تو کوچنگ سینٹروں کو ایک نئی ’’مارکیٹ‘‘ مل جائے گی، جسے پُرانے سامان کی مارکیٹ کہا جاسکتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہوگا، بلکہ کوچنگ سینٹر ٹیوٹروں کے لیے والدین کو پڑھانے کے گُر سکھانے کے طریقوں پر مبنی کورس متعارف کرائیں گے۔

پھر ہوگا یہ کہ پہلے ٹیوٹر والدین کو پڑھانے کے طریقے سیکھیں گے، پھر والدین ان سے پڑھیں گے، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ یوں ہر گھر میں صبح شام پڑھائی ہورہی ہوگی۔ ان گھروں میں میاں بیوی کی گفتگو بھی ’’سبق یاد کرلیا؟‘‘،’’مشق کرلی؟‘‘،’’ذرا میرا سبق تو سُن لیں‘‘،’’میری کاپی کہاں ہے؟‘‘ ،’’کتاب چھوڑیے مجھے بھی یاد کرنا ہے‘‘ جیسے جملوں تک محدود ہوکر رہ جائے گی۔ جس طرح بعض لوگ بُرائی میں پڑ جاتے ہیں اسی طرح والدین پڑھائی میں پڑ جائیں گے۔

اتنی پڑھائی کا اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ اپنے ’’پپو‘‘ کے نمبر اُس کی پھپھو کے بیٹے، ماموں کی بیٹی، خالہ کے لڑکے، چچا کی لڑکی سے زیادہ آگئے تو کاپی کتابوں پر مسلسل جھکا ہوا والدین کا سَر فخر سے بلند ہوجائے گا۔


News Source

’’ہوم ورک‘‘ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی