Pakistan  |  International  |  Business  |  Sports  |  Showbiz  |  Technology  |  Health  |  Wonder  |  Weather  |  Columns

داخلہ منع ہے!

دنیا میں بہت کم مقام ایسے ہوں گے جہاں انسانی قدم نہ پہنچے ہوں اور ایسی تو شاید ہی کوئی جگہ پائی جاتی ہو جو انسانوں کی موجودگی کے اثرات سے متاثر نہ ہوئی ہو، لیکن کچھ مقامات ایسے ضرور ہیں جہاں مختلف وجوہات جیسا کہ قدرتی ماحول کی حفاظت، انسانوں کا تحفظ اور یا پھر ایسے حقائق کو پردہء اخفاء میں رکھنا مقصود ہو، جن کو وہاں کی حکومتیں عوام سے چھپانا چاہتی ہوں وغیرہ کی بنا پر عام لوگوں کو جانے کی اجازت نہیں اور چند مخصوص افراد ہی وہاں جا سکتے یا کچھ فاصلے سے انہیں دیکھ سکتے ہیں۔

اس لیے بجائے اس کے کہ ہمارے اس کرہء ارض پر پائے جانے والے ان مقامات کو دیکھنے کے شوق میں آپ اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں یا پھر قانونی کارروائی کا سامنا کریں، آج ہم آپ کو گھر بیٹھے ہی اِن جگہوں کی سیر کرواتے ہیں۔

1 ۔ سانپوں کا جزیرہ، برازیل (Snake Island, Brazil)

برازیل کے شہر ’ساؤ پاؤلو‘ (Sao Paulo) سے 93 میل کے فاصلے پر واقع اس جزیرے، جس کا سرکاری نام ’اِلحا ڈا کیویماڈا گرانڈا‘ (Ilha da Queimada Granda) ہے، پر محقیقین تو جا سکتے ہیں مگر عام انسانوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ جزیرہ تقریباً 2 تا 4 ہزار سانپوں کا گھر ہے اور یہ کوئی عام سے سانپ نہیں بلکہ خاص نسل کے ’گولڈن لانس ہیڈ‘ (golden lanceheads) سانپ ہیں جو اپنے سُنہرے رنگ کی وجہ سے بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ سانپ اپنے انتہائی زہریلے پن کی وجہ سے مشہور ہیں اور جہاں یہ کاٹتے ہیں وہاں کا گوشت گل سڑ جاتا ہے۔

2 ۔ لاسکاؤس کے غار، فرانس (Lascaux Caves, France)

دنیا بھر میں آج تک دریافت ہونے والی زمانہء قبل از تاریخ کی غاروں کی دیواروں پر بنائی گئی تصاویر میں سے جنوب مغربی فرانس کی ’لاسکاؤس کے غاروں‘ (Lascaux Caves)کی دیواروں پر بنائی گئی تصویریں انتہائی شاندار اور اپنی مثال آپ ہیں۔ تصاویر کے اس طویل سلسلے میں کندہ کاری کے ذریعے بنائی گئی تصویریں بھی شامل ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 20 ہزار سال پُرانی ہیں۔ ان تصاویر میں دوسری چیزوں کے علاوہ جنگلی بھینسے، پہاڑی بکرے، ہرن وبارہ سنگھے اور مویشی بھی دکھائے گئے ہیں۔

غاروں کی دیواروں پر جہاں تک نظر جائے، ہر طرف تصویریں ہی تصویریں بنی ہوئی ہیں۔ ایک غار میں بنی بیلوں کی چار تصاویر کی وجہ سے اسے ’ہال آف دی بُلز‘ (Hall of the Bulls) کا نام دیا گیا ہے۔ فنِ مصوری کے اعتبار سے یہ چاروں تصویریں حیران کُن حد تک کمال کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر 17 فٹ لمبی ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں یہاں آنے والے لوگوں کی وجہ سے ناصرف آرٹ کے اس نادر خزانے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا بلکہ غار بھی پھپھوندی اور سیاہ کائی سے آلودہ ہو گئے۔ لہذا 1960ء کی دھائی میں ان غاروں کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔ تاہم خوشی کی بات یہ ہے کہ حال ہی میں ان غاروں کے نزدیک ایک عجائب گھر اور ان غاروں کی نقل (بمطابق اصل ) بنا دیے گئے ہیں تاکہ لوگ انہیںدیکھ کر اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔

3 ۔ رقبہ 51، امریکا (Area 51, United States)

جتنے سازشی نظریات امریکا کے صحرا ’نیواڈا‘ (Nevada desert) میں واقع اس جگہ، جسے ’ایریا 51‘ (Area 51) کہتے ہیں، کے بارے میں آج تک سامنے آئے ہیں اتنے شاید ہی کسی اور جگہ کے متعلق پیدا ہوئے ہوں۔ یہ علاقہ سخت حفاظتی انتظامات کا حامل ایک خفیہ فوجی اڈا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے کیونکہ عام آدمی کی اس تک رسائی نہیں۔ ’ایریا 51‘ کے بارے میں سب سے مقبول روایت یہ مشہور ہے کہ وہاں خلائی مخلوق سے متعلق تحقیقات ہوتی ہیں۔ تاہم ظاہر ہے کہ اس نظریئے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ساری دنیا کی حکومتیں اسی بات پر قائم ہیں کہ ہمارے اس کرہء ارض پر کبھی خلائی مخلوق کے آنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ ’ایریا 51‘ میںچاہے جو کچھ بھی ہو رہا ہو، یہ بات طے ہے کہ اس کے اردگرد موجود خصوصی حفاظتی اقدامات اور پورے علاقے میں بچھی ہوئی بارودی سرنگیں یہ پتا دے رہی ہیں کہ ’کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے‘۔

4  ۔ شمالی سینٹینل جزیرہ، بھارت (North Sentinel Island, India)

بھارت کے نزدیک خلیج بنگال میں واقع ’شمالی سینٹینل جزیرے‘ کے باسیوں نے گزشتہ ساٹھ ہزار برس میں اپنی تنہائی کا بڑے جارحانہ انداز میں بچاؤ کیا ہے۔ یہاں کے مقامی باشندے باہر والوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ استوار رکھنے کے روادار نہیں اور جو کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کو فوراً قتل کر دیتے ہیں۔ بھارتی ساحلی محافظ کبھی کبھار اس جزیرے کا فضائی جائزہ لیتے رہتے ہیں تاکہ آبادی کا تخمینہ لگا سکیں (جو کے حالیہ برسوں میں کم ہوئی ہے) اور اس بات کا تعین کر سکیں کہ آیا ان کو کسی مدد کی ضرورت تو نہیں، جیسا کہ 2004ء میں آنے والے سونامی کے موقع پر ہوا تھا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے اس جزیرے پر جانے کی ممانعت ہے۔ حال ہی میں ایک نوجوان مبلغ، تبلیغ کے سلسلے میں کسی طرح اس جزیرے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گیاتاہم آخری اطلاعات کے مطابق مقامی قبائل اس کی تیروں سے چھنی لاش کو ریت پر گھسیٹتے پھر رہے تھے۔

5 ۔ پوویگلیا، اٹلی (Poveglia, Italy)

اس چھوٹے سے اطالوی جزیرے کی پُرآشوب تاریخ نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ یہاں آنے والوں کی آمد پر روک لگا دے۔ ’وینس‘ (Venice) اور شمالی اٹلی کے ساحلی شہر ’لیڈو‘ (Lido) کے بیچ واقع یہ جزیرہ کسی زمانے میں ’طبی قید خانے‘ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ 14 ویں صدی عیسوی میں یہاں طاعون کے مرض میں مبتلا لوگوں کو رکھا جاتا تھا۔ بعدازاں 19 ویں صدی میں یہ ذہنی مریضوں کی آماجگاہ رہا۔ یہ افواہ بھی مشہور ہے کہ ایک ظالم طبیب یہاں مریضوں پر اذیت ناک تجربات کیا کرتا تھا۔ آج یہ جزیرہ ایک ممنوعہ علاقہ ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ یہاں ان بدنصیبوں کی روحوں کا بسیرا ہے جو تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے۔ یہ پورے اٹلی کا سب سے بڑا بھوت نگر سمجھا جاتا ہے اور سیاحوں کے علاوہ مقامی افراد کے بھی یہاں داخلے پر پابندی ہے۔ تاہم اگر کوئی اپنی بہادری ثابت کرنا چاہے تو ایک طویل کاغذی کارروائی سے گزر کر یہاں جانے کا اجازت نامہ حاصل کر سکتا ہے۔

6 ۔ ویٹیکن کی خفیہ دستاویزات، ویٹیکن سٹی (Vatican Secret Archives, Vatican City)

ماضی میں ایک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جب مذہب اور اقتدار آپس میں بہت ہی پیچیدہ اور الجھے ہوئے رشتے میں بندھے ہوئے تھے۔ کچھ جگہوں پر شاید آج بھی ایسا ہی ہو۔ عیسائیوں کے مقدس ترین مقام ویٹیکن سٹی (Vatican City) جہاں ان کا سب سے بڑا روحانی پیشوا ’پوپ‘ (Pope) رہتا ہے، میں ایک جگہ ایسی ہی ہے جہاں ویٹیکنکی انتہائی خفیہ دستاویزات نہایت حفاظت سے رکھی ہوئی ہیں۔ ان دستاویزات میں قدیم کیتھولک عیسائیت کے اہم ترین راز، صدیوں کے پوشیدہ حقائق اور مالی حساب کتاب سے لے کر ریاستوں ومملکتوں کے سرکاری کاغذات تک بہت کچھ یہاں محفوظ ہے جنہیں پڑھنا تو درکنار، دیکھنا بھی عام لوگوں کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ثقہ عالم ودانشور حضرات ہی کو انہیں ملاحظہ کرنے کی اجازت ملتی ہے۔ اس جگہ کو اتنا زیادہ خفیہ رکھے جانے کی وجہ سے اس کے متعلق دن بدن قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں کہ آخر یہاں ایسا کیا مواد رکھا ہوا ہے جس کی اتنی حفاظت کی جاتی ہے ؟ کیا یہاں خلائی مخلوق کی موجودگی کے ثبوت اور شیطان کے بارے میں کوئی اہم معلومات چھپا کر رکھی گئی ہے یا پھر 20 ویں صدی عیسوی کے وسط میں قائم فسطائی حکومتوں اور کلیسا کے مابین ہونے والے مبینہ گَٹھ جوڑ کے شواہد کو عوام کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا مقصود ہے ؟

7 ۔ چِن شی ہوانگ کا مقبرہ، چین (Tomb of Qin Shi Huang, China)

چِن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) چین کا پہلا شہنشاہ تھا۔ اس کا وسیع وعریض مقبرہ آج تک دریافت ہونے والے ایسے تمام مقابر میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ نے چین کے جنگجوؤں کے مٹی گارے سے بنے مجسموں کے متعلق سنا ہوا ہے تو وہ یہیں پائے جاتے ہیں۔ گو یہ جگہ چین کے سب سے زیادہ مقبول سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے لیکن یہاں موجود مقبرہ سر بمہر ہے۔ سیاح مٹی گارے سے بنے اِن تقریباً 8000 مجسموں میں سے صرف 2000 کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ باقی مجسمے زیرِزمین غاروں میں پنہاں ہیں۔ یہ افواہ مشہور ہے کہ اس علاقے کو چوری چھپے گھس آنے والوں سے بچانے کے لیے جگہ جگہ مختلف پھندے لگائے گئے ہیں تاکہ وہ ان غاروں اور مقبرے تک نہ پہنچ سکیں لیکن ایک بات جو حقیقت پر مبنی ہے وہ یہ کہ قدیم دور سے ہی ان غاروں میں بڑے پیمانے پر ’پارے‘ (mercury) کے ذریعے حفاظتی حدبندی کی گئی ہے جو بغیر حفاظتی انتظامات کئے یہاں آنے والے کسی بھی شخص کو ہلاک کر دیتی ہے۔ اس لیے امید ہے کہ مستقبل میں بھی ’چِن شی ہوانگ‘ کا جسم، اس کے بے بہا خزانے کے ساتھ ساتھ محفوظ ہی رہے گا۔

ذیشان محمد بیگ
zeeshan.baig@express.com.pk

 

The post داخلہ منع ہے! appeared first on ایکسپریس اردو.


News Source

داخلہ منع ہے!